ابنا: ولادمير پوتين نے پير کو روس کے شہر سوچي ميں اٹلي کےوزير اعظم ماريو مونٹي سے ملاقات کے بعد نامہ نگاروں سے گفتگو ميں کہا کہ انکا ملک افغانستان کي طرح شام ميں بھي لمبي خانہ جنگي شروع کروانے کي سازش کے خلاف ہےـ
پوتين نے کہا کہ شام ميں عالمي مبصرين کا باقي رہنا در حقيقت اقوام متحدہ ميں معتدل راہ حل کے موجود ہونے پر تاکيد ہے۔انہوں نے کہا کہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شام کے سلسلے ميں اقوام متحدہ کے ذريعے اعتدال پسندانہ حل نکالا جا سکتا ہے۔
روسي صدر نے شام کے صدر بشار اسد کو اقتدار سے ہٹانے کي سازشوں کي بابت مغربي ممالک کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ شام کا بحران پرامن مذاکرات کے ذريعے حل ہونا چاہئے انہوں نے کہا کہ بشار اسد کو ہٹانے سے شام خانہ جنگي کا شکار ہوجائے گا۔
........
/169